References
۱۔ محمد دین فوق سیال کوٹ کے ایک گاؤں کے رہنے والے تھے۔ مختلف اخبارات و رسائل سے منسلک رہے۔ ان کی مشہور تصانیف میں سے ’’یادرفتگاں‘‘، ’’رہنمائے کشمیر‘‘، ’’حریتِ اسلام‘‘، ’’تذکرہ شعرائے کشمیر‘‘، ’’شبابِ کشمیر‘‘اور’’تاریخ اقوامِ کشمیر‘‘شامل ہیں۔)تفصیل کے لیے بشیر احمد ڈار کی کتاب ’’انوارِ اقبال‘‘،صفحہ ۸۱ملاحظہ ہو)
۲۔ بشیر احمد ڈار،انوارِ اقبال(لاہور:اقبال اکادمی،طبع دوم،۱۹۷۷ء )،ص۶۳۔
۳۔ شیخ گلاب دین وکیل سیال کوٹ کے رہنے والے تھے۔ علامہ اقبال سے ان کے دیرینہ مراسم تھے۔ انھوں نے ’’قانونِ شریعت و رواج اور قانونِ شہادت‘‘ کا اردو ترجمہ بھی کیا تھا۔ ۱۹۰۸ء میں اقبال پی ایچ۔ ڈی کر کے لاہور آئے تو شیخ گلاب دین نے ان کے اعزاز میں ایک شان دار دعوت کا اہتمام کیا تھا۔ (تفصیل کے لیے محمد عبداللہ قریشی کی تصنیف ’’حیاتِ اقبال کی گم شدہ کڑیاں‘‘، صفحہ ۸۷ملاحظہ کیجیے)
۴۔ محمدعبداللہ قریشی،، حیاتِ اقبال کی گم شدہ کڑیاں(لاہور: بزمِ اقبال، ۱۹۸۲ء)،ص۸۵۔
۵۔ مزید تفصیل کے لیے عبداللہ قریشی کی تصنیف ’’حیاتِ اقبال کی گم شدہ کڑیاں‘‘، صفحہ ۸۵ ملاحظہ کیجیئے۔
۶۔ احمد دین،مولوی، اقبال، مرتبہ: مشفق خواجہ(لاہور: اقبال اکادمی پاکستان، طبع چہارم، ۲۰۰۶ء)،ص۱۱۰۔
۷۔ ایضاً، ص۱۲۵۔
۸۔ ایضاً، ص۲۲۵۔
۹۔ ایضاً، ص ۲۲۹۔
۱۰۔ ایضاً، ص۳۳۹۔
۱۱۔ ممتاز حسن، ڈاکٹر، اقبال اور عبدالحق (لاہور: مجلس ترقی ادب،طبع اوّل، ۱۹۷۳ء)، ص۹۷۔
۱۲۔ احمد دین،مولوی، اقبال، مرتبہ: مشفق خواجہص۹۱۔
Author(s):
Pakistan
- mrtksps@gmail.com
Details:
| Type: | Article |
| Volume: | 1 |
| Issue: | 2 |
| Language: | Urdu |
| Id: | 5ff0d04363161 |
| Pages | 153 - 162 |
| Published | December 31, 2020 |
Copyrights
| MATAN (متْن), Department of Urdu & Iqbaliat, IUB. |
|---|

This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.