Matan, Department of Urdu & Iqbaliat, The Islamia University - Bahawalpur

متن (اردو ریسرچ جرنل)

Department of Urdu, The Islamia University of Bahawalpur
ISSN (print): 2708-5724
ISSN (online): 2708-5732

اقبال کی ڈیوائن کامیڈی ’’سیر فلک‘‘ کا تنقیدی مطالعہ

  • Dr. Muhammad Akbar/
  • June 30, 2021
A critical study of Iqbal's Divine Comedy "Sair e Falak"
Keywords
Divine Comedy, Miraj Nama, Dante, Javed Nama, Allama Iqbal, ‎Travelogue, Persian Poetry, Rumi, Nietshe, Tipo Sultan, 1932. ‎
Abstract

Divine comedy is a literary term .It is derived from ''Miraj Namma ".The poet of all l languages/literature have described the facts and evolution of "Miraj Nama''. Their style and methods of interpretation is familiar.

Divine comedy by Iqbal is a master piece of eastern literature under the guidance of his patron "Rumi". Iqbal envisions the mountain tops .He has propagated his ideas and thought freely like a preacher. Iqbal has discovered different characters of different religions in "Saeer e Falak". Iqbal started his travelogue in "Saeer e Falak" in 1909 and completed in "Javeed Namma" in 1932.All the detail and salient points are discussed in this article.

References

حواشی

۱۔       ڈاکٹر شفیق احمد، شرح بانگ درا (لاہور: معرا ج پرنٹنگ پریس، ۱۹۹۹ء )، ص۲۴۲۔

۲۔       سر سید احمد خاں، تفسیر القرآن، جلد اول (لاہو ر :دوست ایسوسی ایٹس اردو بازار، ۱۹۹۵ء)، ص۱۰۷۔

۳۔      پروفیسر محمد عمر،  سر سید احمد خاں کا نیا مذہبی طرزِ فکر (لا ہو ر :ادارہ ثقافتِ اسلامیہ، ۱۹۹۵ء)، ص۶۷۔

۴۔      علامہ محمد اقبال، تشکیل جدید الہٰیات اسلامیہ، مترجمہ: سید نذیر نیازی  (لا ہو ر : بزم اقبال کلب روڈ، ۱۹۵۶ء)، ص۱۸۳۔

۵۔       پروفیسر حمید اللہ ہاشمی، شرح کلیاتِ اقبال فارسی (لاہور :مکتبہ دانیال، ۲۰۰۴ء)، ص۱۴۷۔

۶۔       علی عباس جلال پوری، اقبال کا علمِ کلام(لا ہو ر :تخلیقات، ۲۰۱۳ء)، ص۱۶۸۔

۷۔      پروفیسر حمید اللہ ہاشمی،   شرح کلیاتِ اقبال فارسی، ص۶۶۶۔

۸۔      مولانا غلام رسو ل مہر، مطالبِ کلامِ اقبال اُردو (لاہور: شیخ غلام علی اینڈ سنز، ۱۹۹۷ء)، ص۲۹۲۔

 ۹۔       پروفیسر حمید اللہ ہاشمی، کلیاتِ اقبال اردو، ص۱۹۔

۱۰۔      ایضاً، ص۱۴۷۔

۱۱۔      ایضاً، ص۱۴۶۔

۱۲۔      ایضاً، ص۵۰۴۔

۱۳۔      ڈاکٹر شفیق احمد، شرح بانگِ درا (لاہور: معرا ج پرنٹنگ پریس، ۱۹۹۹ء )، ص۲۴۲۔

۱۴۔      پروفیسر عبدالعلیم صدیقی، سیرِ افلاک(لاہور: مقبول اکیڈمی، ۲۰۰۰ء)، ص۱۱۔

۱۵۔      عبدالسلام ندوی، اقبالِ کامل(اعظم گڑھ:  ۱۹۸۵ء )، ص۱۰۲۔

۱۶۔      پروفیسر حمید اللہ ہاشمی، کلیاتِ اقبال اردو، ص۱۴۶۔

۱۷۔     پروفیسر عبدالعلیم صدیقی، سیرِ افلاک، ص۱۳۔

۱۸۔      دانتے کا با پ الیگا ٹروڈی ایک منشی اور غریب آدمی تھا۔ دانتے کی ماں مونا بیلا اس کی پیدائش کے بعد فوت ہو گئی ۔ دانتے ۱۲۶۵ء میں اطالیہ کے مشہور شہر فلو رنس میں پیدا ہوا اور ۱۳ستمبر۱۳۲۱ء کو فوت ہوا۔ (دانتے، جہنم، ص۲۴۔ )

۱۹۔      یوسف سلیم چشتی، شرح جاوید نامہ (لا ہو ر : عشرت پبلشنگ ہاؤس، ۱۹۵۶ء)، ص۲۴:۲۵۔

۲۰۔     ایضاً، ص۸۳۔

۲۱۔      ایضاً، ص۶۸۔

۲۲۔     ایضاً، ص۷۴۔

۲۳۔     دانتے، جہنم، (لاہور: بُک ہوم مزنگ روڈ، ۲۰۰۴ ء )، ص۲۳۔

۲۴۔     ایضاً۔

۲۵۔     وشوامتر کھشتری تھا جو برہمنوں کے بعد دوسری بڑی ذات ہے۔ اس کا دارالحکومت قنو ج تھا۔ وہ علم دوست اور محب وطن تھا۔ اس نے بڑے بڑے پنڈتوں سے تعلیم حاصل کی تھی جن میں مشہور برہمن ویشی شٹ بھی شا مل ہے۔ اس نے اپنی تپسیا (ریاضت ) کی بدولت برہمن، راج رشی اور برہم رشی کا مقام حاصل کر لیا تھا۔ وہرا مائن کے مطابق رام چندر کا استا دتھا۔ اس کے اس مقام کی وجہ سے دیوتاؤں کے سردار راجہ اندر کو یہ خو ف ہوا کہ کبھی ان کا مقام دیوتاؤں سے نہ بڑھ جائے۔ لہٰذا اس کے مقام کو ختم کر نے کے لیے عالمِ بالا سے دو حسین دیویوں مینکا دیوی اور رمبھا دیوی کو بھیجا۔ وشوامتر مینکا کی دلکشی اور زلف کا اسیر ہو گیا۔ جس کی وجہ سے اس کا سارا زہد و تقویٰ خاک میں مل گیا۔ جس کے نو ماہ کے نتیجے میں ’’شکنتلا‘‘ نے جنم لیا۔ رگ وید میں وشوامتر اور ویشی شٹ میں مناقشہ بھی ہوا جس کی وجہ راجہ سوداس نے دونوں کو ’’راج گرو‘‘ تعینات کرنا تھا۔ (یوسف سلیم چشتی، شرح جاوید نامہ، ص ۳۸۰۔ )

۲۶۔     محمد اقبال، کلیات اقبال فارسی(لا ہو ر : شیخ غلام علی اینڈ سنز، ۱۹۸۷ء)، ص۶۹۹۔

۲۷۔     مہا دیو شنکر، رُدرا اوتار  تھا۔ مہا دیو شنکر کے بت کی نشانی اس کے ماتھے پر تیسری آنکھ ہے۔ اس کے سر پر ہلال اور ہاتھ میں ترشو ل ہے۔ اس کی گر دن میں سانپ لپٹا ہے اور بائیں ہاتھ، اپنی جورو ہم منت کو اپنے پہلو اور سینے سے چمٹائے ہوئے ہے۔ ( البیرونی، کتاب الہند ، ص ۱۴۴۔ )

۲۸۔     پر جا بتی ڈیکساستی کا با پ اور برہما کا بیٹا تھا۔ وہ پراستی کا شوہر تھا۔ البیرونی کے مطابق چاند کی منزلیں پرجابت کی بیٹیاں ہیں جن سے چاند نے شا دی کر لی تھی۔ وہ اپنی چوتھی بیوی روہنی سے زیادہ پیار کرتا تھا۔ جس کی شکایت دوسری بیویوں نے اپنے با پ سے کی۔ پر جا پتی نے چاند کو سمجھایا کہ وہ تمام بیویوں میں مساوات کرے مگر چاند نہ مانا۔ اس پر پرجابتی نے بد دعا کی اور چاند کا چہرہ داغ دار ہو گیا ہے۔( البیرونی، کتاب الہند، ص۲۷۰۔ )

 ۲۹۔     البیرونی، کتاب الہند،(لاہور: الفیصل ناشران و کتب فروش، ۱۹۹۴ء)، ص۲۷۰۔

۳۰۔     پروفیسر حمید اللہ ہاشمی، کلیات اقبال فارسی، ص۷۱۲۔

۳۱۔      مہاتما گوتم بد ھ، بدھ مذہب کا بانی تھا۔ عام روایات کے مطابق وہ ساتویں صدی قبل مسیح پیدا ہوا اور چھٹی صدی میں فوت ہوا۔ اس کا باپ سدھو دھن کپل نیپال کا راجہ تھا۔ گوتم بدھ کا اصل نام سدھارتھ تھا۔ تیس سال کی عمر میں تا رک الدنیا ہو گیا۔ اس نے چھ سات سال سخت ریاضت کی اور وہ شب و روز مرا قبہ اور دھیان میں مشغول رہا۔ وہ ایشور یا پر م آتما اور آتما یعنی نفسِ ناطقہ کا منکر تھا۔ اس کی تعلیمات کے آٹھ اُصول ہیں:

 ۱۔صحیح عقیدے کی پابندی       ۲۔ آنکھ کا اخلا ص     ۳۔گفتار کا اخلا ص    ۴۔ علم کا اخلاص

 ۵۔معاش کی پاکیزگی  ۶۔ محنت کی پاکیزگی   ۷۔یاد کی پاکیزگی     ۸۔مراقبہ کی پاکیزگی

 (پروفیسر حمید اللہ ہاشمی، کلیات اقبال فارسی، ص۷۱۱۔ )

۳۲۔     زرتشت، نویں صدی قبل مسیح ایران میں پیدا ہوا۔ حکیم فیثا غورث کا شا گرد اور منو چہر کی نسل سے تھا۔ نبوت کا دعوے دار تھا۔ اس کی کتاب ’’ژند‘‘ تھی، جسے آتش پرست آسمانی صحیفہ مانتے ہیں۔ اس کا اصل نام اسپتا  تھا۔ شا دی کے کچھ دن بعد تارک الدنیا ہو گیا۔ پندرہ سال تک صحراؤں میں مجاہدات کیے۔ اہرمن نے کئی طریقوں سے اس کی آزمائش کی۔ اس نے کامیابی کے بعد زرتشت(روشنی کا مالک) کا لقب اختیار کیا۔ قدیم ایرانی مصنفین کے نزدیک انھوں نے اکیس ضخیم کتابیں لکھیں جو سب زمانہ برد ہو گئیں، صرف دو تین کتابیں باقی ہیں۔ شروع شروع میں اہلِ ایران نے ان کی مخالفت کی، بعد ازاں سارا ایران زرتشتی ہو گیا۔

(پروفیسر حمید اللہ ہاشمی، شرح کلیات اقبال فارسی، ص۷۱۳۔ )

۳۳۔     پروفیسر حمید اللہ ہاشمی، شرح کلیاتِ اقبال فارسی، ص۷۰۹۔

۳۴۔     پروفیسر یوسف سلیم چشتی،   شرح جاوید نامہ، ص۴۹۹۔

۳۵۔     ایضاً، ص۴۸۴۔

۳۶۔     ایضاً، ص۴۷۴۔

۳۷۔     پروفیسر حمید اللہ ہاشمی، شرح کلیات اقبال فارسی، ص۷۱۵۔

۳۸۔     پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح جاوید نامہ، ص۵۱۶: ۵۱۸۔

۳۹۔     پروفیسر حمید اللہ ہاشمی، شرح کلیات اقبال فارسی، ص۷۲۰۔

۴۰۔     سید جمال الدین افغانی اسد آباد میں ۱۸۳۸ء میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اٹھارہ سال کی عمر میں تمام متداولہ علوم حاصل کر لیے۔ وہ۱۸۵۶ء میں حج کے ارادہ سے ہندوستان آئے۔ یہاں ایک سال قیام کر نے کے بعد ۱۸۵۷ء میں حج کی سعادت حاصل کی۔ سید صاحب شروع سے ہی ملوکیت کے خلاف تھے۔ ملوکیت کی مخالفت کی وجہ سے ۱۸۶۹ء میں جلا وطن کر دیے گئے۔ وہ برصغیر آئے۔ یہاں سے بھی انگریزوں نے جلا وطن کر دیاتو وہ مصر چلے گئے۔ انھوں نے محمد عبدہ سے بھی فیض حاصل کیا۔ ۱۸۷۹ء میں وہ دوبارہ ہندوستان آئے تو انھیں حیدر آباد دکن میں نظر بند کر دیا گیا۔ بعد ازاں دوبارہ جلاوطن ہو کر فرانس چلے گئے۔ یورپ کو اسلام سے آشنا کرنے کے لیے ایک رسالہ ’’عروۃ الوثقیٰ‘‘ جاری کیا جو عربی اور فرنچ دونوں زبانوں میں تھا۔ انھیں سلطان عبدالحمید نے ۱۸۹۲ء میں قسطنطنیہ آنے کی دعوت دی مگر حق گوئی و بے با کی کی وجہ سے دو تین سال بعد ہی حالات کشیدہ ہو گئے۔ انھوں نے ۱۸۹۷ء میں ترکی میں وفات پائی۔( یوسف سلیم چشتی، شرح جاوید نامہ ، ص۵۳۵۔ )

۴۱۔      سعید حلیم پاشا ۱۸۶۵ ء میں قسطنطنیہ میں پیدا ہوئے۔ انھیں ۱۹۰۲ء میں ’’پاشا‘‘ کا لقب ملا۔ ۱۹۱۳ء میں انگریزوں کی مخالفت کے باوجود وزیر اعظم مقرر ہوئے۔ انھوں نے جنگ ِعظیم اول میں انگریزوں کے خلاف اعلانِ جنگ کیا۔ ۱۹۱۹ء میں انگریزوں نے قسطنطنیہ پر قبضہ کے بعد انھیں مالٹا میں نظر بند کر دیا۔ ایک سال بعد رہا کر دیے گئے۔ ۱۹۲۱ء میں ایک ارمنی نے گولی مار کر انھیں شہید کر دیا۔ ( یوسف سلیم چشتی، شرح جاوید نامہ ، ص۵۳۸۔ )

۴۲۔     پروفیسر حمید اللہ ہاشمی، شرح کلیات اقبال فارسی، ص۷۲۴۔

۴۳۔     ڈاکٹر محمد اقبال، کلیات اقبال فارسی، ص۷۴۲۔

۴۴۔     ایضاً، ص۷۲۹۔

۴۵۔     لا رڈ کچز (۱۸۵۰ء؍۱۹۱۶ء)نے مہدی سوڈانی کی قبر کھود کر اس کی ہڈ یوں کی بے حرمتی کی اور اقتدار کے ہوس میں اپنے دل کی بھڑاس نکالی مگر جب لا ر ڈ کچز نے پہلی جنگِ عظیم میں جرمن فوج سے راہ فرار  اختیار کی تو جر من آبدوز  نے اس کا پیچھا کیا اور اس کے جہا ز کو نشا نہ بنا کر غرق کر دیا۔  مہدی سوڈانی (۱۸۴۳ء؍۱۸۸۵ء)نے اپنی زندگی اسلام کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ جہا د کے ذریعے خرطوم پر قبضہ کیا اور تیرہ سال تک سوڈا ن پر حکومت کی۔ لا رڈ کچز نے ان کی قبر کھود کر اس کی لا ش کی بے حرمتی کی۔ اس نے مہدی کی ہڈیوں کو سرِ با زار نذر ِ آتش کیا۔ اسے ۱۸۹۸ء میں انگریزوں کی طرف سے ’’لا ر ڈ‘‘ کا خطا ب دیا گیا۔ انگلستان کے عالموں نے ’’ڈاکٹر آف سول لا‘‘ کی ڈگری دی۔ اس نے ۱۹۰۰ء میں جنو بی افریقہ کو پچاس ہزار پونڈ میں برطانیہ کو غلام بنایا۔ اس نے تیس ہزار پاؤنڈ سوڈانیوں کو برطانیہ کا غلام بنانے کے لیے انعام پایا۔ ۱۹۰۳ء میں انگریزوں نے اسے جنرل بنا کر ہندوستان کی فو ج کا سپہ سالا ر بنا دیا۔ اسے ۱۹۱۴ء میں جنگی کو نسل کارکن بنایا گیا۔ ۵؍ جو لائی ۱۹۱۶ء کو ہمپ  شائر نامی جہا ز کے ساتھ غرق ہو گیا۔ ( حمیداللہ ہاشمی، شرح کلیات اقبال ، ص۷۶۰۔ )

۴۶۔     پروفیسر حمید اللہ ہاشمی، شرح کلیات اقبال فارسی، ص۷۷۹۔

۴۷۔     محمد اقبال، کلیات اقبال فارسی، ص۷۷۸۔

۴۸۔     ایضاً، ص۷۸۰۔

۴۹۔     ابوالمغیث حسین بن منصور حلاج ۸۵۸ء میں فارس میں پیدا ہوا۔ اس کا دادامجوسی تھا۔ سولہ سال کی عمر میں اس کا میلان تصوف کی طرف ہو گیا۔ چناں چہ اس نے ۸۷۳ءسے ۸۹۷ءتک صوفیت کی تعلیم حاصل کی، جن میں جنید بغدادی قابلِ ذکر ہیں۔ حج سے وا پس آ کر وحدۃ الوجود کی تعلیم میں مشغول ہو گئے۔ اپنے مشہور عقیدے کی بدولت وا جب القتل ٹھہرے۔  آٹھ سال تک جیل میں رہے۔ مالکی قاضی ابو عمر نے ان کے قتل کا فتویٰ دیا تھا جس پر اس کے اعضا قطع کر کے نذر آتش کر دیے گئے۔ اس کی راکھ کو بکھیر دیا گیا تاکہ اس کی قبر  نہ ہو۔ (یوسف سلیم چشتی، شرح ،ص۸۴۵۔ )

۵۰۔     قرۃ العین طاہرہ کا اصل نام زریں تا ج تھا۔ حا جی ملا محمد صالح کی بیٹی تھیں۔ اپنے چچا زاد محمد ملا سے شادی ہوئی۔ جب علی محمد شیرا زی نے بابی فر قے کا اعلا ن کیا تو اس میں شا مل ہو گئیں ۔ باب نے اس کے لیے ’’قرۃ العین‘‘ لقب اور ’’طاہرہ‘‘ تخلص تجویز کیا۔ اپنے با پ، بھائی، شوہر اور انتظامیہ کی مخالفت کے باوجود مذہب باب سے منحرف نہ ہوئیں۔ جس کی وجہ سے ان پر قتل کا فتویٰ لگا تو وہ روپوش ہو کر خراسان چلی گئیں۔ ۱۸۵۰ء میں باب کو شاہ ناصر الدین کے حکم پر قتل کر دیا گیا۔ ۱۸۵۲ء میں طاہرہ بھی گرفتار ہو گئیں ۔ جب اس کو شاہ کے سامنے لایا  گیا تو وہ اس کے حسن و جمال سے اس قدر متاثر ہوا کہ علما سے کہا کہ’’بگزارید کہ صورت زیبا دارد‘‘ وہ بضد تھا کہ اسے معاف کر دیا جائے  مگر علما نے اس کے قتل پر اصرار کیا، البتہ یہ صورت نکالی کہ اگر وہ بابی مذہب سے تائب ہو جائے تو اس کی جا ن بخشی ہو سکتی ہے مگر وہ اپنے مذہب پر قائم رہی، جس پر اس کو قتل کر دیا گیا۔ (یوسف سلیم چشتی، شرح جاوید نامہ ، ص ۸۴۶۔ )

۵۱۔      پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح جاوید نامہ، ص۸۴۸۔

۵۲۔     پروفیسر حمیداللہ ہاشمی، شرح کلیات اقبال فارسی، ص۷۸۳۔

۵۳۔     پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح جاوید نامہ، ص۹۳۴۔

۵۴۔     پروفیسر حمیداللہ ہاشمی، شرح کلیات اقبال فارسی، ص۸۰۶۔

۵۵۔     میر جعفر، نواب سرا ج الدولہ، صوبہ دار بنگالہ کا سپہ سالا ر تھا۔ میر جعفر ذلت آمیز شرائط اور بزدلانہ کردار کی بدولت بنگالہ کا حکمران بنا۔ میر جعفر ۱۷۵۷ءسے ۱۷۶۰ء تک کمپنی کی بساطِ سیاست پر ایک مہرے کی حیثیت سے حکمران رہا مگر جب آقاوؤں کی مرضی سے روگردانی کی تو انھوں نے اسے معزول کر کے میر قاسم کو نوا ب بنا دیا۔ جب میر قاسم نے سر کار کی نافرمانی کی تو اسے ہٹا کر ۱۷۶۴ء میں میر جعفر کو دوبارہ نوا ب بنا دیا۔ میرجعفر د وسری بار آٹھ ما ہ حکمران رہ کر ۱۷۶۵ء میں فوت ہوا۔ (یوسف سلیم چشتی، شرح جاوید نامہ ،ص۹۴۹:۹۵۰۔ )

۵۶۔     میر صادق جنو بی ہند کا عام باشندہ تھا۔ اپنی  چرب زبانی اور مہارت و قابلیت کی وجہ سے پہلے حیدر علی اور بعد ازاں ان کی وفات۱۷۸۴ء، کے سلطان فتح علی خاں المعروف ٹیپو سلطان کا منظورِ نظر ہو گیا۔ سلطان نے اسے پہلے اپنا سفیر اور بعد ازاں وزیر بنا لیا۔ اس نے  انگریزوں سے سا ز با ز کر کے ۱۷۹۹ء میں اپنے مربی کو شہید کرا دیا۔ اس بد قسمت کو اس کے عوض کوئی صلہ نہیں ملا بل کہ نامراد ہی مرا۔ (یوسف سلیم چشتی، شرح جاوید نامہ ، ص۹۵۱۔ )

۵۷۔     پروفیسر حمیداللہ ہاشمی، شرح کلیاتِ اقبال فارسی، ص۸۰۸۔

۵۸۔     ایضاً، ص۸۱۳۔

۵۹۔     ایضاً، ص۸۱۴۔

۶۰۔     پروفیسر عبدالعلیم صدیقی، سیرِ افلاک، ص۱۱۔

۶۱۔      پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح جاوید نامہ، ص۱۰۳۱:۱۰۳۷۔

۶۲۔     ایضاً، ص۱۰۵۰:۱۰۵۲۔

۶۳۔     پروفیسر حمید اللہ ہاشمی،  شرح کلیات اقبال اردو ، ص۲۹۳۔

۶۴۔     پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح جاوید نامہ، ص۱۰۲۰۔

۶۵۔     پروفیسر حمیداللہ ہاشمی، شرح کلیاتِ اقبال فارسی، ص۸۲۲۔

۶۶۔      ایضاً، ص۸۶۷۔

۶۷۔     پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرح جاوید نامہ، ص۱۲۔

Statistics

Author(s):

School Education Department, Punjab.

Pakistan

  • muhammadakbar221@gmail.com

Details:

Type: Article
Volume: 2
Issue: 1
Language: Urdu
Id: 60db8b49895a6
Pages 100 - 131
Published June 30, 2021

Statistics

  • 301
  • 157
  • 62

Copyrights

MATAN, Department of Urdu, IUB.
Creative Commons License
This work is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License.